My Dominant Hemisphere

The Official Weblog of 'The Basilic Insula'

Posts Tagged ‘mathematics

ذرا غور فرمائیے اپنے انسان ہونے کی حیثیت پر

with 2 comments

واقعی کتنا چھوٹا ہے انسان

(ایک ضروری بات: اس مضمون کو سہی روپ میں دیکھنے کے لئے آپ ناظرین کو یہ font ڈاونلوڈ کرکے اپنے سسٹم پر ڈالنا ہوگا . یہ ایسی font ہے جو خاص کمپیوٹر سکرین پر باآسانی پڑھنے کے لئے بنائی گئی ہے .)

آداب دوستو ،

پچھلے کچھ لمحوں میں میرے ذہن میں ایک بات آئی . ہم انسان ‘ اشرف المخلوقات ‘ کے نام سے اپنے آپ کے بارے میں سوچتے ہیں ، اور یقیناً مذہبی طور پر بھی ہم کو یہی سکھایا جاتا ہے . اکثر اس بات کو لے کر ہم کافی مغرور بھی ہو جاتے ہیں . بھول جاتے ہیں کہ ، یے خطاب ہم پر یوں ہی نہیں نوازا گیا . کیا ہم اسکے واقعی حقدار ہیں ؟

سچ پوچھیں تو ہم اسکے حقدار تبھی کہلایںگے جب ہماری فکر اور ہمارے اعمال میں واضح طور پر اسکا ثبوت ہو . لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سے اکثریت کا یہ حال ہے کہ نا تو ہم کو اس کا احساس ہوتا ہے اور نا اس بات کو لے کر دلچسپی . ہم اپنی روز مرّہ زندگیوں کو جینے میں اتنے گم و مبتلا ہیں کہ ‘ اشرف المخلوقات ‘ کا کردار نبھانا بھول جاتے ہیں . اور ایسی چیزوں پر توجہ دینا بھول جاتے ہیں جن پر وقت لگا کر ہم یے کردار نبھانے کی کم از کم کوشش تو کر سکتے ہیں .

کل میں نے جول سارٹور نام کے مشہور فوٹوگرافر کی تقریر دیکھی . اس میں وہ یے بیان کر رہے تھے کہ ہماری یے قدرتی ماحول کو تباہ کرنے کی رفتار کی تیزی ، ہماری اس رفتار کی تیزی سے کئی گنا بڑھ کر ہے جس سے ہم جیتے جاگتے جانور ، پیڑ – پودوں کے نئے اقسام کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں . آخر کتنی حیرت انگیز بات ہے یے . نا جانے کتنے ایسے قدرتی چیزوں کو دیکھے بغیر اور ان کے بارے میں غور کئے بغیر انسان یوں ہی آخر تک جیتا جا ے گا . وہ یے بھی بتا رہے تھے کہ اگلے دس سال میں دنیا کے تمام جل تھلیوں کے اقسام میں ، پچاس فیصد کا ناپیدا و غیب ہونے کا امکان ہے . یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے !

طبّی دنیا میں بھی ہم نے حال ہی میں genetic codes کو سمجھنا شروع کیا ہے . اور ہماری بیماریوں کو لے کر جانکاری میں نئی طرح کی سوچ پیدا اب ہی ہو رہی ہے . نا جانے آگے اور کیا ترقی ہوگی  اور نئی باتوں کا پتا چلے گا .

ہم حیاتی دنیا کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں ، کیا ہم کو اس بات کا احساس ہے ؟

مشہور فوٹوگرافر جول سارٹور کی قدرتی ماحول کے بچاؤ پر لاجواب تقریر .

نامور فوٹوگرافر ، Yann Arthus-Bertrand کی یہ شاندار فلم ہم کو سمجھاتی ہے کہ ہم کیا داؤ پر لگا رہے ہیں . پوری فلم یہاں دیکھئے .

فزکس کی دنیا بھی ہم کو ہمارے ماحول کے بارے میں سکھاتی ہے . کبھی غور کیجئے ، چاہے واقعہ کیسا بھی ہو یا چیز کیسی بھی ہو ، وہ ایک probability wave کے ڈھنگ میں سوچا یا سوچی جا سکتی ہے . بہت ہی انوکھی بات ہے یے . کیونکہ انسان کا دماغ ایسا نہیں چلتا . وہ اس بات کو ماننے سے انکار کرتا ہے کہ بھلا کوئی چیز ایک ہی پل میں ، ایک سے زائد مقام پر بھی پائی جا سکتی ہے . لیکن یے علمی تجربوں سے ممکن پایا گیا ہے (جیسا کہ Wheeler’s Experiment) اور دانشوروں میں اس بات کو لے کر اب بھی بحث ہوتے رہتی ہے . اور ہان ، علمی تجربوں سے یے بھی ثابت ہوا ہے کہ دو علیحدہ چیزیں ، چاہے ان کے بیچ میں کتنا بھی فاصلہ ہو ، کبھی کبھی ان میں ایک قسم کا رابطہ ہوتا ہے ، جس کو quantum entanglement کہتے ہیں . ذہن ماننے کو انکار کرتا ہے ، لیکن ہاں یہ سچ ہے . اور بھی ایسی کئی دلچسپ باتیں ہیں جیسے multiple-space-dimensions , time dilation, wormholes وغیرہ . اور تو اور ، ان چیزوں کا جائزہ ہم گھر بیٹھے ہی لے سکتے ہیں . کبھی اندھیری رات کو ، اپنی نظریں آسمان کے ستاروں کی طرف دوڑ ایں اور غور کریں کہ ان کی روشنی کو ہماری آنکھوں تک پہنچنے میں کتنا وقت لگا ہوگا . کیا وہ جو ستارے آپ کو نظر آ رہے ہیں ، اتنی مدّت میں وہیں کے وہیں ہیں یا پھر چل بسے ہیں ؟ نظر دوڑانا شاید آپ کو مشکل کام لگتا ہوگا . لیکن Orion Nebula جیسی دور کی چیزیں تو آپ کے سامنے ہی ہیں ! ذرا دیکھئے تو !

ہم طبیعی کائنات کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں ، کیا ہم کو اس بات کا احساس ہے ؟

The Elegant Universe - PBS NOVA

PBS NOVA سے جاری کی گئی فزکس پر بہترین فلم

حساب کی دنیا میں ہم کو حال ہی میں پتا چلا ہے کہ infinity کے بھی اقسام ہوتے ہیں . بلکہ infinity کے infinite اقسام ہیں ! ایک infinity دوسری infinity سے بڑھی یا چوٹی ہو سکتی ہے . غور کر یے دو circles A & B پر . ایک بڑھا ہے ، تو دوسرا چھوٹا . یعنی کہ ایک کا circumference دوسرے سے بڑھا ہے . لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہر circumference کے اندر infinite sides ہوتے ہیں ؟ تو بڑھے circle میں جو infinite sides ہیں وہ چھوٹے circle کے infinite sides سے زیادہ ہوئے ؛ ہے نا ؟ کتنی دلچسپ بات ہے . اور ایسی نا جانے کئی ایسی چیزیں ہیں جن کا اندازہ ہم کو آج بھی نہیں ہے .

ہم حساب کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں ، کیا ہم کو اس بات کا احساس ہے ؟

The Story of Maths - BBC

BBC کی شاندار فلم ، The Story of Maths

Marcus du Sautoy بتاتے ہیں symmetry کی اہمیت

پرسوں میں نے ایک اور تقریر دیکھی جس میں خطیب نے یے نقطہ اٹھایا کہ ہر دو ہفتے ، ایک ایسے انسان کی موت ہوتی ہے جو اپنے ساتھ ساتھ اپنی زبان اور ادبیات لے کر اس دنیا سے چل بستا ہے . وہ اپنی زبان کا واحد اور آخری بول چال میں استعمال کرنے والا فرد ہوتا ہے اور اس کے جانے کے بعد اس کی نسل ، اس زبان سے ناتا ہمیشہ کے لئے کھو بیٹھتی ہے . اور اس نسل کے ساتھ ساتھ دنیا کے باقی سبھی لوگ بھی . صدیوں سے اکٹھا کی گئی حکمت یافتہ باتیں جو اس زبان میں بندھی پڑھی تھیں ، اب وہ گویا ہمیشہ کے لئے غیب ہو جاتی ہیں .

ہم بیٹھے بیٹھے صدیوں کا علم ہاتھوں سے گنوا رہے ہیں ، کیا ہم کو اس بات کا احساس ہے ؟

ہر دو ہفتے اس دنیا سے ایک زبان چل بستی ہے

سچ پوچھیں توعام طور پر اس سوال کا جواب نفی میں ہوتا ہے .

اور انسان ان چیزوں پر غور و فکر کرنے کے بجائے ایسی چیزوں پر توانائی اور وقت ضائع کرنے کو ہمیشہ تیّار رہتا ہے . جیسا کہ ایک دوسرے سے جھگڑنا یا جنگ لڑنا ، یا پھر غیر اخلاقی اقتصادی برتری کے نشے میں آ کر ایک دوسرے کو کچلنا یا ایک دوسرے کے سامنے ٹانگ اڑانا وغیرہ وغیرہ .

کیا یے دانشمند مخلوق کی صفت ہے ؟ کیا ہم ایسا برتاؤ کر کے اپنے ‘ اشرف المخلوقات ‘ والے کردار سے منہ نہیں موڈ رہے ہیں ؟ کبھی کبھی لگتا ہے کہ آخرت تک یہی ماجرا رہے گا . جب تک کہ ہم میں اپنے ترجیحات‌‍ٍ زندگی کو صحیح کرنے کا احساس نہیں ہوگا یہی حال رہے گا .

اس نقطے سے ذہن میں ایک اور ایک خیال آیا . نا جانے انسان کی عقل کا کتنا حصّہ ماضی کے تجربوں پر منحصر ہوتا ہے . یعنی کہ ذکاوت کی دین (output) ، ماضی کی لین (input) پر کتنی منحصر ہے ؟

اگر انسان اپنے ماضی میں ، اپنے گرد و نواح سے اور اپنی حیثیت و کیفیت سے ناواقف ہوتا تو کیا یے توقع سے بعید ہے کہ وہ چھوٹی موتی ، نا گوار چیزوں پر اپنا وقت ضائع کرتا ؟ اپنا اصلی کردار ادا کرنا بھول جاتا ؟ غور کیا جاے تو ہم یے مظہرartificial intelligence programming میں بھی پا سکتے ہیں . میرا قیاس ہے کہ کئی AI systems اسی طرح چلتے ہیں . ان میں ضرور ایسا code ہوتا ہوگا جس سے روبوٹ کو باہر کی دنیا کا احساس پانے میں مدد ملتی ہوگی . جیسے ہی اس کو باہر کے ماحول میں تبدیلی کا احساس ہوتا ہے ، وہ اپنا رویّہ بدل دیتا ہے . شاید ہم بھی اسی طرح ہی ہیں . بس ہمارے شعور و احساسات کو مزید جگانا ہوگا .

کبھی سوچا نہیں تھا کہ اتنا طویل فلسفیانہ مضمون لکھو نگا . لکھتے لکھتے اتنا وقت گزر گیا ! تو بس دوستو ، آج کے لئے اتنا ہی . ملتے ہیں اگلی بار . اس طرح کبھی کبھی ہمیں اس تیز رفتار زندگی سے وقت نکال کر اپنے کردار کو نبھانے کے بارے میں سوچنا ہوگا . کہ بھئی ، ہم ‘ اشرف المخلوقات ‘ خطاب کے واقعی حقدار بنتے ہیں یا نہیں ؟ اپنے رب اور اس کی کائنات کو سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ اور کس طرح اپنا وقت گزارنا چاہتے ہیں .

جانے سے پہلے اسی موضوع پر دیکھئے ایک لطف بھرا انگریزی گیت :

… The sky calls to us,
If we do not destroy ourselves,
We will one day venture to the stars …

Copyright Firas MR. All rights reserved.

Elegance In Inelegance

with 2 comments

Courtesy Lydia Elle @ Flickr (by-nc license)

Courtesy Lydia Elle @ Flickr (by-nc license)

I just finished a great lecture series on the history of mathematics by Dr. David Bressoud recently1. Remember how I once spoke about elegance in inelegance? How some people have argued (eg: Lee Smolin) that the universe just might be complex by nature? How mankind might just be wrong about looking for simple and thus elegant solutions to explain physical phenomena?

Well, I was pretty intrigued by some of the stuff I learned about Henri Poincare‘s work in this regard. Poincare is famous for a number of things, his Poincare conjecture being the most obvious of them. A Russian math guru, Grigori Perelman, apparently proved this conjecture some years back and among other peculiar things, not only declined the Fields medal but also a million dollar prize for solving one of the toughest math problems ever known.

But I was particularly piqued by how Poincare was fascinated by this idea of finding elegance and hidden patterns even where one might expect junk. Here are what might be interesting questions as crude examples:

Take a random set of 100 beads. Throw these beads on the floor. They scatter randomly. How many throws would be needed to find at least three beads on the floor that yield an equilateral triangle when they are connected? How many throws would you need to find a cluster of beads that is of a certain shape or size?

That there is some sense of order even in randomness and chaos, is truly an enchanting concept.

Have any thoughts of your own? Do send in your feedback :-)!

1. Queen Of The Sciences (Lectures by David Bressoud)

Copyright © Firas MR. All rights reserved.

Written by Firas MR

August 31, 2009 at 11:49 pm

The Story Of Sine

with 5 comments

zaveqna@flickr (by-nc-sa license)

zaveqna@flickr (by-nc-sa license)

I’ve been studying mathematics lately and really enjoying it. Here’s an interesting story about the history of the trigonometric function, ‘sine‘.

Early in the 1st millenium A.D., a new way of thinking about chords was coming about. The chord is defined as the straight line that joins two points on the circumference of a circle. The ancient Greeks had developed trigonometric functions to calculate the length of arbitrary chords. But several centuries later, by the early 1st millenium A.D., mathematicians in India began to think about calculating and working with half-chord lengths instead. For this, they developed the familiar ‘sine’ and ‘cosine‘ functions that we still use to this day. The earliest accounts of the use of the half-chord in Indian texts, is from the Surya Siddhanta (c. 300 – 400 AD), written in Sanskrit. The sound of the Sanskrit word used for ‘half-chord’ was ardha-jya [ardha = half, jya = chord]. Perhaps they found this word too long and eventually it was shortened to jya or jiva for all practical purposes.

By roughly the end of the 1st millenium A.D., the vanguard of scientific growth was now in the hands of the Arab world. In translating the works from Sanskrit into Arabic, scholars in the Arab world transliterated and pronounced jiva as jiba [جب]. The sound ‘jiba‘ is recorded in Arabic as two consonants j [ج] and b [ب] with no vowels explicitly written between them. The vowel sounds are merely implied.

Several centuries later, after the decline of scientific growth in the Arab world, came the Europeans. When they in turn came upon the Arabic word for jiva and tried to translate it, they of course ended up with a word, ‘jb‘ [pronounced as ‘jay bee‘]. Apparently, they were oblivious of the implied vowel sounds. Things were dandy for the Arab scientists, but the Europeans couldn’t make any sense of the sound ‘jay bee‘ because such a sound doesn’t exist in any of the words in the Arabic language. They found that the closest sound to ‘jay bee‘, was the sound ‘jaib‘ or ‘ja-eeb‘, in the Arabic word for the mammary gland! And so the Europeans assumed that the half-chord was to be referred to with a Latin word that meant mamma, mammary gland or any of its other synonyms. Perhaps out of modesty, it was ultimately instead decided that the word used for the fold of a cloth utilized to cover a mamma would be appropriate to refer to a half-chord. This word was ‘sinus’. And from this Latin word ‘sinus‘, ultimately came the English word ‘sine‘ that is in use today!

Remarkable, isn’t it?

Feel free to send in your feedback, corrections and comments 🙂 .

References:

  1. Queen Of The Sciences (Lectures by David Bressoud)

Copyright © Firas MR. All rights reserved.

Written by Firas MR

August 27, 2009 at 5:35 pm

Posted in Math, Science

Tagged with , , ,