My Dominant Hemisphere

The Official Weblog of 'The Basilic Insula'

Posts Tagged ‘Math

Let’s Face It, We Are Numskulls At Math!

with one comment

Noted mathematician, Timothy Gowers, talks about the importance of math

I’ve often written about Mathematics before Footnotes. As much as math helps us better understand our world (Modern Medicine’s recent strides have a lot to do with applied math for example), it also tells us how severely limited man’s common thinking is.

Humans and yes some animals too, are born with or soon develop an innate ability for understanding numbers. Yet, just like animals, our proficiency with numbers seems to stop short of the stuff that goes beyond our immediate activities of daily living (ADL) and survival. Because we are a higher form of being (or allegedly so, depending on your point of view), our ADLs are a lot more sophisticated than say those of, canaries or hamsters. And consequently you can expect to see a little more refined arithmetic being used by us. But fundamentally, we share this important trait – of being able to work with numbers from an early stage. A man who has a family with kids knows almost by instinct that if he has two kids to look after, that would mean breakfast, lunch and dinner times 2 in terms of putting food on the table. He would have to buy two sets of clothes for his kids. A kid soon learns that he has two parents. And so on. It’s almost natural. And when someone can’t figure out their way doing simple counting or arithmetic, we know that something might be wrong. In Medicine, we have a term for this. It’s called acalculia and often indicates the presence of a neuropsychiatric disorder.

It’s easy for ‘normal’ people to do 2 + 2 in their heads. Two oranges AND two oranges make a TOTAL of four oranges. This basic stuff helps us get by day-to-day. But how many people can wrap their heads around 1 divided by 0? If you went to school, yea sure your teachers must have hammered the answer into you: infinity. But how do you visualize it? Yes, I know it’s possible. But it takes unusual work. I think you can see my point, even with this simple example. We haven’t even begun to speak about probability, wave functions, symmetries, infinite kinds of infinities, multiple-space-dimensions, time’s arrow, quantum mechanics, the Higgs field or any of that stuff yet!

As a species, it is so obvious that we aren’t at all good at math. It’s almost as if we construct our views of the universe through this tunneled vision that helps us in our day-to-day tasks, but fails otherwise.

We tend to think of using math as an ability when really it should be thought of as a sensory organ. Something that is as vital to understanding our surroundings as our eyes, ears, noses, tongues and skins. And despite lacking this sense, we tend to go about living as though we somehow understand everything. That we are aware of what it is to be aware of. This can often lead to trouble down the road. I’ve talked about numerous PhDs having failed at the Monty Hall Paradox before. But a recent talk I watched, touched upon something with serious consequences that meant people being wrongfully convicted because of a stunted interpretation of DNA, fingerprint evidence, etc. by none other than “expert” witnesses. In other words, serious life and death issues. So much for our expertise as a species, eh?!

How the human mind struggles with math!

We recently also learned that the hullabaloo over H1N1 pandemic influenza had a lot do with our naive understanding of math, the pitfalls of corporate-driven public-interest research notwithstanding.

Anyhow, one of my main feelings is that honing one’s math not only helps us survive better, but it can also teach us about our place in the universe. Because we can then begin to fully use it as a sensory organ in its own right. Which is why a lot of pure scientists have argued that doing math for math’s own sake can not only be great fun (if done the right way, of course :-P) but should also be considered necessary. Due to the fact that such research has the potential to reveal entirely new vistas that can enchant us and surprise us at the same time (take Cantor’s work on infinity for example). For in the end, discovery, really, is far more enthralling than invention.

UPDATE 1: Check out the Khan Academy for a virtually A-Z education on math — and all of it for free! This is especially a great resource for those of us who can’t even recall principles of addition, subtraction, etc. let alone calculus or any of the more advanced stuff.

Copyright © Firas MR. All rights reserved.


# Footnotes:

  1. ذرا غور فرمائیے اپنے انسان ہونے کی حیثیت پر
  2. Decision Tree Questions In Genetics And The USMLE
  3. The Story Of Sine
  4. On The Impact Of Thinking Visually
  5. A Brief Tour Of The Field Of Bioinformatics
  6. Know Thy Numbers!

, , , , ,

ذرا غور فرمائیے اپنے انسان ہونے کی حیثیت پر

with 2 comments

واقعی کتنا چھوٹا ہے انسان

(ایک ضروری بات: اس مضمون کو سہی روپ میں دیکھنے کے لئے آپ ناظرین کو یہ font ڈاونلوڈ کرکے اپنے سسٹم پر ڈالنا ہوگا . یہ ایسی font ہے جو خاص کمپیوٹر سکرین پر باآسانی پڑھنے کے لئے بنائی گئی ہے .)

آداب دوستو ،

پچھلے کچھ لمحوں میں میرے ذہن میں ایک بات آئی . ہم انسان ‘ اشرف المخلوقات ‘ کے نام سے اپنے آپ کے بارے میں سوچتے ہیں ، اور یقیناً مذہبی طور پر بھی ہم کو یہی سکھایا جاتا ہے . اکثر اس بات کو لے کر ہم کافی مغرور بھی ہو جاتے ہیں . بھول جاتے ہیں کہ ، یے خطاب ہم پر یوں ہی نہیں نوازا گیا . کیا ہم اسکے واقعی حقدار ہیں ؟

سچ پوچھیں تو ہم اسکے حقدار تبھی کہلایںگے جب ہماری فکر اور ہمارے اعمال میں واضح طور پر اسکا ثبوت ہو . لیکن مجھے لگتا ہے کہ ہم میں سے اکثریت کا یہ حال ہے کہ نا تو ہم کو اس کا احساس ہوتا ہے اور نا اس بات کو لے کر دلچسپی . ہم اپنی روز مرّہ زندگیوں کو جینے میں اتنے گم و مبتلا ہیں کہ ‘ اشرف المخلوقات ‘ کا کردار نبھانا بھول جاتے ہیں . اور ایسی چیزوں پر توجہ دینا بھول جاتے ہیں جن پر وقت لگا کر ہم یے کردار نبھانے کی کم از کم کوشش تو کر سکتے ہیں .

کل میں نے جول سارٹور نام کے مشہور فوٹوگرافر کی تقریر دیکھی . اس میں وہ یے بیان کر رہے تھے کہ ہماری یے قدرتی ماحول کو تباہ کرنے کی رفتار کی تیزی ، ہماری اس رفتار کی تیزی سے کئی گنا بڑھ کر ہے جس سے ہم جیتے جاگتے جانور ، پیڑ – پودوں کے نئے اقسام کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں . آخر کتنی حیرت انگیز بات ہے یے . نا جانے کتنے ایسے قدرتی چیزوں کو دیکھے بغیر اور ان کے بارے میں غور کئے بغیر انسان یوں ہی آخر تک جیتا جا ے گا . وہ یے بھی بتا رہے تھے کہ اگلے دس سال میں دنیا کے تمام جل تھلیوں کے اقسام میں ، پچاس فیصد کا ناپیدا و غیب ہونے کا امکان ہے . یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے !

طبّی دنیا میں بھی ہم نے حال ہی میں genetic codes کو سمجھنا شروع کیا ہے . اور ہماری بیماریوں کو لے کر جانکاری میں نئی طرح کی سوچ پیدا اب ہی ہو رہی ہے . نا جانے آگے اور کیا ترقی ہوگی  اور نئی باتوں کا پتا چلے گا .

ہم حیاتی دنیا کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں ، کیا ہم کو اس بات کا احساس ہے ؟

مشہور فوٹوگرافر جول سارٹور کی قدرتی ماحول کے بچاؤ پر لاجواب تقریر .

نامور فوٹوگرافر ، Yann Arthus-Bertrand کی یہ شاندار فلم ہم کو سمجھاتی ہے کہ ہم کیا داؤ پر لگا رہے ہیں . پوری فلم یہاں دیکھئے .

فزکس کی دنیا بھی ہم کو ہمارے ماحول کے بارے میں سکھاتی ہے . کبھی غور کیجئے ، چاہے واقعہ کیسا بھی ہو یا چیز کیسی بھی ہو ، وہ ایک probability wave کے ڈھنگ میں سوچا یا سوچی جا سکتی ہے . بہت ہی انوکھی بات ہے یے . کیونکہ انسان کا دماغ ایسا نہیں چلتا . وہ اس بات کو ماننے سے انکار کرتا ہے کہ بھلا کوئی چیز ایک ہی پل میں ، ایک سے زائد مقام پر بھی پائی جا سکتی ہے . لیکن یے علمی تجربوں سے ممکن پایا گیا ہے (جیسا کہ Wheeler’s Experiment) اور دانشوروں میں اس بات کو لے کر اب بھی بحث ہوتے رہتی ہے . اور ہان ، علمی تجربوں سے یے بھی ثابت ہوا ہے کہ دو علیحدہ چیزیں ، چاہے ان کے بیچ میں کتنا بھی فاصلہ ہو ، کبھی کبھی ان میں ایک قسم کا رابطہ ہوتا ہے ، جس کو quantum entanglement کہتے ہیں . ذہن ماننے کو انکار کرتا ہے ، لیکن ہاں یہ سچ ہے . اور بھی ایسی کئی دلچسپ باتیں ہیں جیسے multiple-space-dimensions , time dilation, wormholes وغیرہ . اور تو اور ، ان چیزوں کا جائزہ ہم گھر بیٹھے ہی لے سکتے ہیں . کبھی اندھیری رات کو ، اپنی نظریں آسمان کے ستاروں کی طرف دوڑ ایں اور غور کریں کہ ان کی روشنی کو ہماری آنکھوں تک پہنچنے میں کتنا وقت لگا ہوگا . کیا وہ جو ستارے آپ کو نظر آ رہے ہیں ، اتنی مدّت میں وہیں کے وہیں ہیں یا پھر چل بسے ہیں ؟ نظر دوڑانا شاید آپ کو مشکل کام لگتا ہوگا . لیکن Orion Nebula جیسی دور کی چیزیں تو آپ کے سامنے ہی ہیں ! ذرا دیکھئے تو !

ہم طبیعی کائنات کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں ، کیا ہم کو اس بات کا احساس ہے ؟

The Elegant Universe - PBS NOVA

PBS NOVA سے جاری کی گئی فزکس پر بہترین فلم

حساب کی دنیا میں ہم کو حال ہی میں پتا چلا ہے کہ infinity کے بھی اقسام ہوتے ہیں . بلکہ infinity کے infinite اقسام ہیں ! ایک infinity دوسری infinity سے بڑھی یا چوٹی ہو سکتی ہے . غور کر یے دو circles A & B پر . ایک بڑھا ہے ، تو دوسرا چھوٹا . یعنی کہ ایک کا circumference دوسرے سے بڑھا ہے . لیکن کیا یہ سچ نہیں کہ ہر circumference کے اندر infinite sides ہوتے ہیں ؟ تو بڑھے circle میں جو infinite sides ہیں وہ چھوٹے circle کے infinite sides سے زیادہ ہوئے ؛ ہے نا ؟ کتنی دلچسپ بات ہے . اور ایسی نا جانے کئی ایسی چیزیں ہیں جن کا اندازہ ہم کو آج بھی نہیں ہے .

ہم حساب کے بارے میں کتنا کم جانتے ہیں ، کیا ہم کو اس بات کا احساس ہے ؟

The Story of Maths - BBC

BBC کی شاندار فلم ، The Story of Maths

Marcus du Sautoy بتاتے ہیں symmetry کی اہمیت

پرسوں میں نے ایک اور تقریر دیکھی جس میں خطیب نے یے نقطہ اٹھایا کہ ہر دو ہفتے ، ایک ایسے انسان کی موت ہوتی ہے جو اپنے ساتھ ساتھ اپنی زبان اور ادبیات لے کر اس دنیا سے چل بستا ہے . وہ اپنی زبان کا واحد اور آخری بول چال میں استعمال کرنے والا فرد ہوتا ہے اور اس کے جانے کے بعد اس کی نسل ، اس زبان سے ناتا ہمیشہ کے لئے کھو بیٹھتی ہے . اور اس نسل کے ساتھ ساتھ دنیا کے باقی سبھی لوگ بھی . صدیوں سے اکٹھا کی گئی حکمت یافتہ باتیں جو اس زبان میں بندھی پڑھی تھیں ، اب وہ گویا ہمیشہ کے لئے غیب ہو جاتی ہیں .

ہم بیٹھے بیٹھے صدیوں کا علم ہاتھوں سے گنوا رہے ہیں ، کیا ہم کو اس بات کا احساس ہے ؟

ہر دو ہفتے اس دنیا سے ایک زبان چل بستی ہے

سچ پوچھیں توعام طور پر اس سوال کا جواب نفی میں ہوتا ہے .

اور انسان ان چیزوں پر غور و فکر کرنے کے بجائے ایسی چیزوں پر توانائی اور وقت ضائع کرنے کو ہمیشہ تیّار رہتا ہے . جیسا کہ ایک دوسرے سے جھگڑنا یا جنگ لڑنا ، یا پھر غیر اخلاقی اقتصادی برتری کے نشے میں آ کر ایک دوسرے کو کچلنا یا ایک دوسرے کے سامنے ٹانگ اڑانا وغیرہ وغیرہ .

کیا یے دانشمند مخلوق کی صفت ہے ؟ کیا ہم ایسا برتاؤ کر کے اپنے ‘ اشرف المخلوقات ‘ والے کردار سے منہ نہیں موڈ رہے ہیں ؟ کبھی کبھی لگتا ہے کہ آخرت تک یہی ماجرا رہے گا . جب تک کہ ہم میں اپنے ترجیحات‌‍ٍ زندگی کو صحیح کرنے کا احساس نہیں ہوگا یہی حال رہے گا .

اس نقطے سے ذہن میں ایک اور ایک خیال آیا . نا جانے انسان کی عقل کا کتنا حصّہ ماضی کے تجربوں پر منحصر ہوتا ہے . یعنی کہ ذکاوت کی دین (output) ، ماضی کی لین (input) پر کتنی منحصر ہے ؟

اگر انسان اپنے ماضی میں ، اپنے گرد و نواح سے اور اپنی حیثیت و کیفیت سے ناواقف ہوتا تو کیا یے توقع سے بعید ہے کہ وہ چھوٹی موتی ، نا گوار چیزوں پر اپنا وقت ضائع کرتا ؟ اپنا اصلی کردار ادا کرنا بھول جاتا ؟ غور کیا جاے تو ہم یے مظہرartificial intelligence programming میں بھی پا سکتے ہیں . میرا قیاس ہے کہ کئی AI systems اسی طرح چلتے ہیں . ان میں ضرور ایسا code ہوتا ہوگا جس سے روبوٹ کو باہر کی دنیا کا احساس پانے میں مدد ملتی ہوگی . جیسے ہی اس کو باہر کے ماحول میں تبدیلی کا احساس ہوتا ہے ، وہ اپنا رویّہ بدل دیتا ہے . شاید ہم بھی اسی طرح ہی ہیں . بس ہمارے شعور و احساسات کو مزید جگانا ہوگا .

کبھی سوچا نہیں تھا کہ اتنا طویل فلسفیانہ مضمون لکھو نگا . لکھتے لکھتے اتنا وقت گزر گیا ! تو بس دوستو ، آج کے لئے اتنا ہی . ملتے ہیں اگلی بار . اس طرح کبھی کبھی ہمیں اس تیز رفتار زندگی سے وقت نکال کر اپنے کردار کو نبھانے کے بارے میں سوچنا ہوگا . کہ بھئی ، ہم ‘ اشرف المخلوقات ‘ خطاب کے واقعی حقدار بنتے ہیں یا نہیں ؟ اپنے رب اور اس کی کائنات کو سمجھتے ہیں یا نہیں ؟ اور کس طرح اپنا وقت گزارنا چاہتے ہیں .

جانے سے پہلے اسی موضوع پر دیکھئے ایک لطف بھرا انگریزی گیت :

… The sky calls to us,
If we do not destroy ourselves,
We will one day venture to the stars …

Copyright Firas MR. All rights reserved.

On The Impact Of Thinking Visually

with 5 comments

Romanesco broccoli - One of many examples of fractals in nature. (Wikipedia)

Romanesco broccoli - One of many examples of fractals in nature. (Wikipedia)

What do Mandelbrot and Einstein have in common?

They were/are both math aficionados. But more importantly, they both laid down the foundations for thinking about abstract natural phenomena in a geometrical way. The impact was reverberating.

Before Einstein came along, people had no real sense of gravity at all. Yea sure, there was Newton’s universal law of gravitation. But no one really could make any sense whatsoever of how exactly gravity might operate. Was it a wave? If so, at what speed could it act? Was there something particulate about it? Gravity was so mystical. And as always, so have been the concepts of time and space. Einstein’s greatest achievement in my view is that not only was he able to lay out the underpinnings of such phenomena in the form of a couple of abstract equations, but perhaps more importantly, that he devised a method to think about them visually. In developing his theories of special and general relativity, Einstein proposed the idea of the space-time fabric. It has a 3-D structure, yet represents four dimensions – 3 in space and 1 in time. Gravity would result from distortions in this fabric. The speed with which gravity could influence an object would depend on how fast these distortions could travel. And this central notion of ‘distortions in a fabric’ would also influence our understanding of the more difficult to grasp concepts of time and space. Time and space could mean different things to different observers depending on how this fabric was warped or sliced.

Mandelbrot achieved the same thing with his theory of fractals. How can complex natural structures and phenomena be represented mathematically? How to mathematically model a plant, the form of a human or a mountain range? In spite of how incredibly difficult it all sounds, these complex shapes could all be simplified into repeating units of tiny yet geometrically simple components – fractals. Mandelbrot went on to write his epic, “The Fractal Geometry Of Nature” and there was no turning back. Suddenly so many of nature’s workings could now be analyzed mathematically. An immensely significant step for mankind indeed. What I find absolutely fascinating about fractals, is the discovery that many intangible natural phenomena also contain a fractal component. Dr. Ary Goldberger and his team of researchers at Harvard Medical School have been working on applying fractal theory to medicine and biology. For those of you who might not be familiar with Dr. Goldberger, the name might ring a bell if you’ve read his books on electrocardiography. For Dr. Goldberger, interest in electrocardiography runs in the family, his father having invented the augmented limb leads back in the day. Among some of the things I learned about his work on electrocardiography, is that his team has shown that there is a fractal nature to ECG waveforms! This isn’t something like representing the heart itself in fractal form. It’s the activities of the heart that we are talking about here. Something really quite abstract. By looking at these fractal patterns, one could potentially detect pathology at a much earlier stage. Fractal patterns and their aberrations could help detect diseases in ways that no one had ever imagined! If you want to dig what’s cool, check out what’s been going on in the world of fractals in medicine – from human vasculature, to the brain and beyond. A quick PubMed query would lead you to a lot of riveting literature on the topic. Don’t forget to also take a look at the excellent documentary on fractal theory from PBS NOVA, “Hunting The Hidden Dimensions“.

Copyright © Firas MR. All rights reserved.

Readability grades for this post:

Flesch reading ease score: 61.1
Automated readability index: 8.6
Flesch-Kincaid grade level: 8.2
Coleman-Liau index: 10.8
Gunning fog index: 11.6
SMOG index: 11

Written by Firas MR

August 18, 2009 at 11:48 pm

Infusion Confusion – How To Calculate Drug Infusion Rates

with 7 comments

Source, author and license

The erosion of math and analytical skills that occurs with medics is truly astounding. Not surprising some might argue, what with it being such a memory oriented field. One area that many medics struggle with is drug dosage calculations. In the ER, one often doesn’t have the luxury of time and instant thinking is absolutely critical. Numbers need to be played out in seconds and optimal drug regimens have to be formulated. I was helping a colleague understand calculations for dopamine infusion the other day and thought like sharing with you folks some of the things we talked about.

Dopamine is used especially in ER settings to increase perfusion/blood pressure by means of its vasopressor, inotropic and chronotropic effects. When re-establishing blood pressure in a patient,  attention not only needs to be paid to drugs that might be used but also fluid replacement for any amount of fluid loss from the body. Two questions need to be asked before starting a dopamine infusion:

  1. How much dopamine?
  2. How much fluid and how fast?

The usual dosage of dopamine is somewhere between 5-10 μg/kg/min. For the following example I’ll use 10 μg/kg/min.

1μg = 0.001mg.

For a patient weighing x kg, the dosage is therefore 0.01x mg/min. Now that you’ve established how much dopamine you need to infuse per minute, here comes the second part.

Suppose you intend to infuse y ml of fluid (as part of the dopamine infusion, i.e. aside from any other fluid infusions already in place). Say also that you’ve added z mg of dopamine to form the infusate. Dopamine is supplied in liquid form, so any amount of dopamine occupies a certain volume in ml, which in most situations is negligible.

y ml of infusate = volume of Normal Saline, etc. + volume of dopamine

If z mg of dopamine is contained in y ml of infusate,

0.01x mg dopamine is contained in [0.01x/z] * y ml of infusate.

Thus you’re interested in giving [0.01x/z] * y ml of infusate every minute and a simple formula is derived where:

rate of dopamine infusion in ml/min = [0.01x/z] * y

and therefore, z = [0.01x/(rate of infusion in ml/min)] * y

x = body weight in kg

z = amount of dopamine added in mg

y = total volume of infusate in ml

For any drug infusion:

rate of infusion in ml/min = [(total drug dose in mg/min)/(amount of drug added in infusate in mg)] * volume of infusate in ml

This infusate is typically given via an infusion set that specifies a unique drops per ml ratio. At our pediatrics ER for example, infusion sets come in two forms – microdrip infusion sets (1 ml = 60 drops) and macrodrip infusion sets (1 ml = 20 drops). Simply multiply the rate of infusion in ml/min with 60 or 20 to get the infusion rate in drops/min for micro and macro IV sets respectively.

As seen from the formula above, when deciding to add a given amount of drug to form the infusate, three things need to be fixed first:-

  1. Dose of drug in the mg/min format (should be appropriate to the clinical condition of the patient).
  2. Total volume of infusate in ml (again, this depends on the clinical condition and hemodynamic stability of the patient).
  3. Speed or rate of fluid replacement in ml/min (this is important as sudden fluid-volume changes in the body can be problematic in certain cases and you want to go for a rate that is optimal, neither too slow nor too fast.)

And with that I end this post. Hope readers find this useful. Comments and corrections are welcome!

Readability grades for this post:

Kincaid: 8.4
ARI: 7.9
Coleman-Liau: 10.2
Flesch Index: 65.7/100 (plain English)
Fog Index: 12.7
Lix: 39.4 = school year 6
SMOG-Grading: 11.6

Copyright © Firas MR. All rights reserved.

Written by Firas MR

June 13, 2008 at 1:41 pm

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.